دل اس ہجوم شہر میں تنہا کہیں جسے
By ahmad-azeemFebruary 5, 2024
دل اس ہجوم شہر میں تنہا کہیں جسے
ایسا نہیں کوئی کہ شناسا کہیں جسے
آنکھوں میں چبھ رہی ہے کوئی موج موج ریگ
وحشت بدن میں پھیلتا صحرا کہیں جسے
بھیجے ہیں اس نے پھول بہت سے گلاب کے
تجدید دوستی کا تقاضا کہیں جسے
پھینکا ہے اس نے ایک تبسم بہ طرز گل
ساری ستم گری کا ازالہ کہیں جسے
دیکھا ہے اس نے آج دم وصل آئنہ
آنکھوں میں مہر تاب جھلکتا کہیں جسے
پوچھا ہے اس نے آج صف کشتگاں کا حال
ہر حرف حرف زیست کا مژدہ کہیں جسے
ایسا نہیں کوئی کہ شناسا کہیں جسے
آنکھوں میں چبھ رہی ہے کوئی موج موج ریگ
وحشت بدن میں پھیلتا صحرا کہیں جسے
بھیجے ہیں اس نے پھول بہت سے گلاب کے
تجدید دوستی کا تقاضا کہیں جسے
پھینکا ہے اس نے ایک تبسم بہ طرز گل
ساری ستم گری کا ازالہ کہیں جسے
دیکھا ہے اس نے آج دم وصل آئنہ
آنکھوں میں مہر تاب جھلکتا کہیں جسے
پوچھا ہے اس نے آج صف کشتگاں کا حال
ہر حرف حرف زیست کا مژدہ کہیں جسے
59581 viewsghazal • Urdu