دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیں

By baqi-siddiquiJanuary 19, 2024
دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیں
بے تابیاں سمٹ کے ترا نام بن گئیں
کچھ لغزشوں سے کام جہاں کے سنور گئے
کچھ جرأتیں حیات پر الزام بن گئیں


ہر چند وہ نگاہیں ہمارے لیے نہ تھیں
پھر بھی حریف گردش ایام بن گئیں
آنے لگا حیات کو انجام کا خیال
جب آرزوئیں پھیل کے اک دام بن گئیں


کچھ کم نہیں جہاں سے جہاں کی مسرتیں
جب پاس آئیں دشمن آرام بن گئیں
باقیؔ جہاں کرے گا مری مے کشی پہ رشک
ان کی حسیں نگاہیں اگر جام بن گئیں


67727 viewsghazalUrdu