دل کو ترے خیال میں حل کر دیا گیا
By abdullah-saqibJanuary 6, 2024
دل کو ترے خیال میں حل کر دیا گیا
بے اعتبار چیز کو شل کر دیا گیا
اب تیرگی کو چاہیے گستاخ دوسرا
اپنی ردا سمیٹ کے جل کر دیا گیا
بے لوث پیش کی گئیں منکر کو صحبتیں
ہم کو عشائیہ بھی سنبھل کر دیا گیا
لاہوت تک رسائی کی کھاتے تھے جو قسم
شہر طرب میں ان کو مظل کر دیا گیا
ہر غم دل نزار کا خوں میں لپیٹ کر
بزم سخن وراں میں غزل کر دیا گیا
اللہ کیا بلا ہے یہ دور جدیدیت
ہر آگہی کو آن میں چھل کر دیا گیا
کیسا جواب چاہیے من جانب دلاں
لب لباب جب کہ کچل کر دیا گیا
بے اعتبار چیز کو شل کر دیا گیا
اب تیرگی کو چاہیے گستاخ دوسرا
اپنی ردا سمیٹ کے جل کر دیا گیا
بے لوث پیش کی گئیں منکر کو صحبتیں
ہم کو عشائیہ بھی سنبھل کر دیا گیا
لاہوت تک رسائی کی کھاتے تھے جو قسم
شہر طرب میں ان کو مظل کر دیا گیا
ہر غم دل نزار کا خوں میں لپیٹ کر
بزم سخن وراں میں غزل کر دیا گیا
اللہ کیا بلا ہے یہ دور جدیدیت
ہر آگہی کو آن میں چھل کر دیا گیا
کیسا جواب چاہیے من جانب دلاں
لب لباب جب کہ کچل کر دیا گیا
70100 viewsghazal • Urdu