دل کو یہ احسان اٹھانا پڑتا ہے
By ahmar-nadeemFebruary 5, 2024
دل کو یہ احسان اٹھانا پڑتا ہے
آنکھوں سے احوال سنانا پڑتا ہے
راتیں خیر گزر جاتی ہیں خلوت میں
دن میں تو کردار نبھانا پڑتا ہے
لحظہ لحظہ خواب میسر آتے ہیں
رفتہ رفتہ ہوش گنوانا پڑتا ہے
چپکے چپکے اپنے اندر جاتے ہیں
سہمے سہمے باہر آنا پڑتا ہے
بستی بستی ویرانی ہے صدیوں کی
صحرا سے یہ راز چھپانا پڑتا ہے
خاموشی ہی خاموشی ہو پہلو میں
تب دنیا میں شور مچانا پڑتا ہے
آنکھوں سے احوال سنانا پڑتا ہے
راتیں خیر گزر جاتی ہیں خلوت میں
دن میں تو کردار نبھانا پڑتا ہے
لحظہ لحظہ خواب میسر آتے ہیں
رفتہ رفتہ ہوش گنوانا پڑتا ہے
چپکے چپکے اپنے اندر جاتے ہیں
سہمے سہمے باہر آنا پڑتا ہے
بستی بستی ویرانی ہے صدیوں کی
صحرا سے یہ راز چھپانا پڑتا ہے
خاموشی ہی خاموشی ہو پہلو میں
تب دنیا میں شور مچانا پڑتا ہے
58906 viewsghazal • Urdu