دل ملمع سازیوں سے بھر گئے

By hina-ambareenFebruary 6, 2024
دل ملمع سازیوں سے بھر گئے
باغ نقلی تتلیوں سے بھر گئے
آئیں جب اسٹیڈیم میں لڑکیاں
ہال یک دم سیٹیوں سے بھر گئے


کھوکھلے ہونے لگے ہیں قہقہے
آئنے کٹھ پتلیوں سے بھر گئے
کیا بنا دی آدمی کی زندگی
شہر سارے وحشیوں سے بھر گئے


وہ سڑک پر پاؤں دھرتی خوبرو
سب گھروندے کھڑکیوں سے بھر گئے
کھو گیا رس جادوئی آواز کا
کان ایسے جھڑکیوں سے بھر گئے


جن کے زخموں پر نمک مسلے گئے
ہسپتال ان زخمیوں سے بھر گئے
کروٹوں سے اوبتے پہلو رہے
میز کتنے شیشیوں سے بھر گئے


پھینک دیں بیساکھیاں تیراک نے
سارے دریا کشتیوں سے بھر گئے
راکھ کیسے پھول میں بدلی گئی
خواب کس کی شوخیوں سے بھر گئے


ان لبوں سے رات بھر پھوٹے سخن
اور چشمے موتیوں سے بھر گئے
دستکوں کے زور سے در کھل گئے
کان بجتی انگلیوں سے بھر گئے


70983 viewsghazalUrdu