اس کی کھڑکی سے روشنی آئی
By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
اس کی کھڑکی سے روشنی آئی
شہر میں پھر سے زندگی آئی
جب خیالات ہو گئے بوڑھے
تب محبت پہ کم سنی آئی
وہ نہ بولا تو آج کانوں میں
جو صدا آئی اجنبی آئی
باقی سب شہر ہو گیا غائب
سامنے جب تری گلی آئی
مجھ کو آیا نہ ہاتھ پھیلانا
میرے حصے میں شاعری آئی
اس لئے بھی کراہتا ہوں میں
کوئی آواز دے ابھی آئی
گر ہوا آئی بھی شب فرقت
تو چراغوں کو ڈھونڈھتی آئی
شہر میں پھر سے زندگی آئی
جب خیالات ہو گئے بوڑھے
تب محبت پہ کم سنی آئی
وہ نہ بولا تو آج کانوں میں
جو صدا آئی اجنبی آئی
باقی سب شہر ہو گیا غائب
سامنے جب تری گلی آئی
مجھ کو آیا نہ ہاتھ پھیلانا
میرے حصے میں شاعری آئی
اس لئے بھی کراہتا ہوں میں
کوئی آواز دے ابھی آئی
گر ہوا آئی بھی شب فرقت
تو چراغوں کو ڈھونڈھتی آئی
16608 viewsghazal • Urdu