ایک اگر پیمانہ ہوتا
By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
ایک اگر پیمانہ ہوتا
مے خانہ مے خانہ ہوتا
گھر چاہے ویرانہ ہوتا
ان کا آنا جانا ہوتا
میں تو خود کو بھول گیا تھا
تم نے تو پہچانا ہوتا
آپ اگر ہنکارے دیتے
اور ہی کچھ افسانہ ہوتا
ہر لڑکی جو لیلی ہوتی
ہر لڑکا دیوانہ ہوتا
دونوں مل کر ہستی بنتے
عشق کا تانا بانا ہوتا
کاش تمہارے پاؤں کا موزہ
فہمیؔ کا دستانہ ہوتا
مے خانہ مے خانہ ہوتا
گھر چاہے ویرانہ ہوتا
ان کا آنا جانا ہوتا
میں تو خود کو بھول گیا تھا
تم نے تو پہچانا ہوتا
آپ اگر ہنکارے دیتے
اور ہی کچھ افسانہ ہوتا
ہر لڑکی جو لیلی ہوتی
ہر لڑکا دیوانہ ہوتا
دونوں مل کر ہستی بنتے
عشق کا تانا بانا ہوتا
کاش تمہارے پاؤں کا موزہ
فہمیؔ کا دستانہ ہوتا
40359 viewsghazal • Urdu