اک حسن کامیاب ہے موسم بسنت کا

By bishan-dayal-shad-dehlviFebruary 26, 2024
اک حسن کامیاب ہے موسم بسنت کا
عشرت سے باریاب ہے موسم بسنت کا
نغمہ سرا رباب ہے موسم بسنت کا
بیداریٔ شباب ہے موسم بسنت کا


دل دادۂ شراب ہے موسم بسنت کا
پیمانۂ ثواب ہے موسم بسنت کا
سب موسموں کی آب ہے موسم بسنت کا
واللہ آفتاب ہے موسم بسنت کا


سونا بچھا ہوا ہے ہر اک سبزہ زار پر
تصویر انقلاب ہے موسم بسنت کا
ہر چیز پر ابھار ہے ہر شکل پر نکھار
امڈا ہوا شباب ہے موسم بسنت کا


سرسوں کی آبرو پہ زمانے کی ہے نظر
قسمت کا لاجواب ہے موسم بسنت کا
رنگینیوں میں اس کی محبت کی ہے جھلک
تصویر بے حجاب ہے موسم بسنت کا


ہر زندگی پہ چھائی ہوئی بے خودی سی ہے
بکھری ہوئی شراب ہے موسم بسنت کا
دامن میں جس کے پھولتی پھلتی ہے آرزو
وہ حسن شوخ و شاب ہے موسم بسنت کا


کیا منظر حسیں ہے کہ دل شاد شادؔ ہے
جاگیر اضطراب ہے موسم بسنت کا
72987 viewsghazalUrdu