اک نہ اک شاخ تمنا کی ہری رہتی ہے

By irfan-aazmiFebruary 6, 2024
اک نہ اک شاخ تمنا کی ہری رہتی ہے
پھول مل جائے تو کانٹوں کی کمی رہتی ہے
دست قابو سے بہت دور نکل جاتی ہے
دل میں جو حسرت ناکام دبی رہتی ہے


ایسا لگتا ہے کہ دنیا نے ستایا ہے بہت
ہر دم اس شخص کے ہونٹوں پہ ہنسی رہتی ہے
عدل و انصاف شہنشاہ کے ایواں میں کہاں
دیکھنے کے لیے زنجیر لگی رہتی ہے


تیری یادوں کے سوا کون یہاں آتا ہے
کس کی خوشبو مرے کمرے میں بسی رہتی ہے
عشق ہر آن حوادث میں گھرا رہتا ہے
حسن والوں کو محبت کی پڑی رہتی ہے


گزر اوقات کی کیا پوچھ رہے ہو عرفانؔ
دن گزرتے ہیں مگر رات کھڑی رہتی ہے
39194 viewsghazalUrdu