اک تماشا دیکھتا ہوں رسم الفت کے خلاف

By bishan-dayal-shad-dehlviFebruary 26, 2024
اک تماشا دیکھتا ہوں رسم الفت کے خلاف
آنکھ ہے دل کی مخالف دل نصیحت کے خلاف
سہ رہی ہیں ظلم آنکھیں نظم قدرت کے خلاف
بت کدے پر جھک رہا ہے دل مشیت کے خلاف


لاکھ سر پٹکا کرے دل ضعف حجت کے خلاف
چل نہیں سکتی کوئی تدبیر قسمت کے خلاف
ناتواں سی یہ صدا آتی ہے اب بھی نجد میں
وہ بھی کیا دن تھے کہ جب دل تھا محبت کے خلاف


مرحبا وہ بے نیازی مدعیٔ ہوش کی
جو غنی کر دے توکل بن کے دولت کے خلاف
آئنہ یہ کہہ کے آخر توڑ ڈالا شوخ نے
شرک کی صورت نظر آئی ہے وحدت کے خلاف


آخری منزل پہ دم لے کر جو دیکھا تو کھلا
راہ دنیا میں نہیں کوئی حقیقت کے خلاف
ایک وعدے پر ہی کیا موقوف ہے جان جہاں
تم ہمیشہ بات کرتے ہو طبیعت کے خلاف


اب مجھے اپنے مقدر پر حقیقی ناز ہے
سامنے ہونے کو ہیں آخر وہ عادت کے خلاف
چھپ گئے ہیں اس لیے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
فیصلہ محفوظ ہے گویا شہادت کے خلاف


دیکھتا گر شادؔ اور آباد ہر مغموم کو
کیوں زباں کھلتی بشر کی دست رحمت کے خلاف
65514 viewsghazalUrdu