اک ترا تصور ہی آخری سہارا ہے

By badiuzzaman-saharJanuary 19, 2024
اک ترا تصور ہی آخری سہارا ہے
ورنہ دل کا آئینہ کب سے پارہ پارہ ہے
زندگی خبر بھی ہے بے وفا زمانے میں
میں نے تیری زلفوں کو کس طرح سنوارا ہے


ایک دل کی تنہائی اور سو غم دوراں
میں نے درد دنیا پہ درد دل کو وارا ہے
میں ہوں اس کنارے پر تم ہو اس کنارے پر
بیچ میں سمندر کا کتنا تیز دھارا ہے


دل تڑپ گئے ہوں گے باغ میں عنادل کے
میں نے بے وفا تجھ کو جس طرح پکارا ہے
ازدحام جلوہ ہے بارش تجلی ہے
دامن نظر کس نے شوق سے پسارا ہے


لوگ ٹھیک کہتے ہیں قبر پر مری آ کر
موت سے یہ کیا مرتا زندگی نے مارا ہے
دل کے آبگینے کو ٹھیس لگ گئی کیسے
کیا کسی نے پھر مجھ کو دور سے پکارا ہے


بول تیرے کانوں سے کس کی چیخ ٹکرائی
ہائے کتنا لرزیدہ تیرا گوشوارہ ہے
اے سحرؔ چلے آتے تم بھی سیر گلشن کو
باد نو بہاری ہے شبنمی نظارا ہے


27444 viewsghazalUrdu