فطرت کی بند مٹھیوں کو کھولتا رہا
By haris-bilalFebruary 6, 2024
فطرت کی بند مٹھیوں کو کھولتا رہا
میں آئنہ مزاج تھا اور بولتا رہا
اک خواب سارے شہر میں لے کر پھرا مجھے
اک لو کے ساتھ ساتھ دیا ڈولتا رہا
یوںہی نہ تھا سمٹنا مرا پھیلنا مرا
اپنے کناروں پر میں بدن تولتا رہا
مجھ پیڑ کی جڑوں میں اتر کر شفا ہوا
نسخہ جو خاک پا میں کوئی رولتا رہا
دل کا کوئی مکین یوںہی اٹھ کے چل پڑا
بہتا ہوا رگوں میں کوئی کھولتا رہا
حارثؔ تمام شور شرابے میں تیری مثل
اک راگ میرے کان میں رس گھولتا رہا
میں آئنہ مزاج تھا اور بولتا رہا
اک خواب سارے شہر میں لے کر پھرا مجھے
اک لو کے ساتھ ساتھ دیا ڈولتا رہا
یوںہی نہ تھا سمٹنا مرا پھیلنا مرا
اپنے کناروں پر میں بدن تولتا رہا
مجھ پیڑ کی جڑوں میں اتر کر شفا ہوا
نسخہ جو خاک پا میں کوئی رولتا رہا
دل کا کوئی مکین یوںہی اٹھ کے چل پڑا
بہتا ہوا رگوں میں کوئی کھولتا رہا
حارثؔ تمام شور شرابے میں تیری مثل
اک راگ میرے کان میں رس گھولتا رہا
48077 viewsghazal • Urdu