سحاب ہوں تپش آفتاب کیسے دوں

By irfan-aazmiFebruary 6, 2024
سحاب ہوں تپش آفتاب کیسے دوں
کرم سے بڑھ کے ستم کا جواب کیسے دوں
رموز ہجر متاع حجاب کیسے دوں
تمہارے ہاتھ میں دل کی کتاب کیسے دوں


حساب مجھ سے نہ مانگو مری وفاؤں کا
میں تم کو سارے جہاں کا حساب کیسے دوں
جہاد ہو تو جمال وفا پہ مٹ جاؤں
سراب حسن کو اپنا شباب کیسے دوں


حدود ذات سے آگے خیال ہے میرا
کسی کو جان غزل کا خطاب کیسے دوں
دلوں کی بات تو سب سے کہی نہیں جاتی
فرشتے آئے ہیں لینے حساب کیسے دوں


مری حیات کا گلشن ہے خار خار عرفانؔ
میں اپنی شاخ قلم کو گلاب کیسے دوں
15144 viewsghazalUrdu