رہ جنوں جو نشان قدم اکٹھا تھے

By asim-qamarFebruary 25, 2024
رہ جنوں جو نشان قدم اکٹھا تھے
وہ ہم نہیں تھے وجود و عدم اکٹھا تھے
حیات اصل معانی میں کھل کے آئی تھی
اس ایک سال میں سارے جنم اکٹھا تھے


یہاں میں اپنی اداسی بتانے آؤں گا
کسی درخت پہ لکھ دو کے ہم اکٹھا تھے
شب فراق تھی اور میں خدا سے غصہ تھا
فلک پہ سارے نجوم ایک دم اکٹھا تھے


تری چھون سے رواں ہو گئے ہیں برجستہ
ہزاروں سیل تمنا کے نم اکٹھا تھے
تمہارا ہجر بہانا بنا ہے پچھلوں کا
یہ مجھ پہ آج کھلا اتنے غم اکٹھا تھے


ہمارا ذہن بھی مسجد کے صحن جیسا رہا
جگہ بہت تھی مگر لوگ کم اکٹھا تھے
68720 viewsghazalUrdu