گاڑیوں سے نہ تیری کوٹھیوں سے

By ikram-arfiFebruary 6, 2024
گاڑیوں سے نہ تیری کوٹھیوں سے
دنیا چلتی ہے چند روٹیوں سے
دل میں آئے کوئی کھری عورت
یہ کنواں بھر گیا ہے کھوٹیوں سے


آپ کو خوف ہے نشیبوں کا
میں گرا ہوں بلند چوٹیوں سے
پیار عنقا ہے جب جہاں سے ملے
گوریوں کالیوں کلوٹیوں سے


آخری انجمن سجاؤں گا
نئے یاروں سے اور لنگوٹیوں سے
مہرباں سی دعا سلام اکرامؔ
بڑی بہنوں کی جیسے چھوٹیوں سے


21229 viewsghazalUrdu