گھر کے پہلو میں کھڑا تھا جو شجر ختم ہوا

By asim-qamarFebruary 25, 2024
گھر کے پہلو میں کھڑا تھا جو شجر ختم ہوا
اب دریچے سے ہواؤں کا گزر ختم ہوا
لمبی بیماری نے کل آخری ہچکی لے لی
زندگی جیت گئی موت کا ڈر ختم ہوا


روح کو چاہیے ایسا کوئی جسمانی پڑاؤ
جس کو چھوتے ہی لگے آج سفر ختم ہوا
شام تھی میں نے جسے وقت سحر مان لیا
رات گھر آئی تو نیرنگ نظر ختم ہوا


مڑ کے جاتے ہوئے میں نے اسے دیکھا بھی نہیں
اور جب بعد میں غصے کا اثر ختم ہوا
یہ جو نسبت ہے عجب شے ہے ذرا دیکھیں بھلا
ایک انسان گیا سارا نگر ختم ہوا


62170 viewsghazalUrdu