گھر کی الجھن سے طبیعت یوں رہی الجھی ہوئی

By farooq-noorFebruary 6, 2024
گھر کی الجھن سے طبیعت یوں رہی الجھی ہوئی
ٹیبلوں پہ جیسے فائل شام تک بکھری ہوئی
آج سارا دن ہی اس نے منتشر رکھا مجھے
رات کی کڑواہٹوں سے چائے جو کڑوی ہوئی


وہ سڑک کے موڑ پر انسان تھا مرتا ہوا
یا تھی اس کے ساتھ میں انسانیت مرتی ہوئی
آپ کے کہنے سے کر لوں کیسے دنیا پہ یقیں
آپ بھی دیکھے ہوئے ہیں دنیا بھی دیکھی ہوئی


شہر چھوڑے اس کو تو برسوں ہوئے ہم آج بھی
دیکھتے ہیں ریل گاڑی دور تک جاتی ہوئی
یوں خزاں کے دور میں شاداب رکھتی تھی مجھے
جیسے چڑھتی بیل سوکھے پیڑ سے لپٹی ہوئی


ننھے منے پھول سارے ایک دم سے کھل گئے
گرمیوں کے دن لگے اسکول کی چھٹی ہوئی
تو نے جو بھیجے تھے میسج اب بھی موبائل میں ہیں
سیو ہے تصویر ساری گیلری میں کی ہوئی


راستے بھر نورؔ میرے ساتھ میں چلتے رہے
چہرہ وہ اترا ہوا سا آنکھ وہ بجھتی ہوئی
96714 viewsghazalUrdu