گھر میں اک رات زبانوں پہ تھا ہائے ابو

By asim-qamarFebruary 25, 2024
گھر میں اک رات زبانوں پہ تھا ہائے ابو
پھر کبھی لوٹ کے واپس نہیں آئے ابو
آخری پہر میں جا کے کہیں نیند آتی ہے
اور پھر خواب میں سینہ سے لگائے ابو


یوں تو نو فرد تھے حالانکہ بھرم رکھنے کو
پیر کوئی نہ سمجھ پایا سوائے ابو
میرا بیٹا بھی بڑا ہو کے سمجھ جائے گا
میں بھی روتا تھا کھلونے نہیں لائے ابو


کاش اک روز میں جاگوں تو پرانے دن ہوں
ان کو اخبار دوں اور پوچھ لوں چائے ابو
جب سفر کے لیے تیاریاں کرتے کرتے
تھک گئے تو مرے ہاتھوں سے نہائے ابو


99535 viewsghazalUrdu