غزل کا آب و دانہ چل رہا ہے

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
غزل کا آب و دانہ چل رہا ہے
ابھی اک غم پرانا چل رہا ہے
زمانہ ہو گیا دنیائے دل میں
وہی گزرا زمانہ چل رہا ہے


سر محفل جو قصہ تھم گیا تھا
وہ قصہ غائبانہ چل رہا ہے
سجا رکھی ہے اک تصویر گھر میں
اسی سے مسکرانا چل رہا ہے


ابھی آئے نہیں قابو میں خطرے
ابھی بچنا بچانا چل رہا ہے
نہ آنسو ہیں نہ سسکی ہے نہ آہیں
مگر رونا رلانا چل رہا ہے


کبھی دیکھو مرے کوچے میں آ کر
تمہارا آنا جانا چل رہا ہے
جسے چھوڑا تھا اس نے برسوں پہلے
وہی خالی خزانہ چل رہا ہے


60791 viewsghazalUrdu