غرور کاتب تقدیر توڑ ڈالتے ہیں
By farhat-ehsasFebruary 26, 2024
غرور کاتب تقدیر توڑ ڈالتے ہیں
چلو یہ آبلۂ بخت پھوڑ ڈالتے ہیں
جو ہم نے دیکھا اسے کوئی اور کیوں دیکھے
ہم اس کے جاتے ہی آئینہ توڑ ڈالتے ہیں
رقیب ہیں ترے کوچے کے سب سگ دنیا
جو عاشق آتا ہے اس کو بھنبھوڑ ڈالتے ہیں
بگڑنے دیتے نہیں ہم محبتوں کا حساب
مکان نفع خساروں سے توڑ ڈالتے ہیں
کرے جو ایک بھی نیکی تو اس کے کھاتے میں
ہم اپنی نیکیاں لاکھوں کروڑ ڈالتے ہیں
نہ بچ رہے کہیں معنی کے نور کی کوئی بوند
ہم اپنا قافیہ اتنا نچوڑ ڈالتے ہیں
ہماری نیند سے ہم کو اٹھا نہیں پاتے
یہ زلزلے جو زمیں کو جھنجھوڑ ڈالتے ہیں
سوائے عشق کسی کام کے نہیں احساسؔ
کوئی بھی کام دیا جائے گوڑ ڈالتے ہیں
چلو یہ آبلۂ بخت پھوڑ ڈالتے ہیں
جو ہم نے دیکھا اسے کوئی اور کیوں دیکھے
ہم اس کے جاتے ہی آئینہ توڑ ڈالتے ہیں
رقیب ہیں ترے کوچے کے سب سگ دنیا
جو عاشق آتا ہے اس کو بھنبھوڑ ڈالتے ہیں
بگڑنے دیتے نہیں ہم محبتوں کا حساب
مکان نفع خساروں سے توڑ ڈالتے ہیں
کرے جو ایک بھی نیکی تو اس کے کھاتے میں
ہم اپنی نیکیاں لاکھوں کروڑ ڈالتے ہیں
نہ بچ رہے کہیں معنی کے نور کی کوئی بوند
ہم اپنا قافیہ اتنا نچوڑ ڈالتے ہیں
ہماری نیند سے ہم کو اٹھا نہیں پاتے
یہ زلزلے جو زمیں کو جھنجھوڑ ڈالتے ہیں
سوائے عشق کسی کام کے نہیں احساسؔ
کوئی بھی کام دیا جائے گوڑ ڈالتے ہیں
63222 viewsghazal • Urdu