گریہ و زاری کا سامان اٹھا لیتے ہیں

By hamza-bilalFebruary 26, 2024
گریہ و زاری کا سامان اٹھا لیتے ہیں
ہجر میں میرؔ کا دیوان اٹھا لیتے ہیں
کوئی لیلیٰ بھی نہیں اپنی کہانی میں مگر
سر پہ ہم دشت و بیابان اٹھا لیتے ہیں


ہم کو تلوار سے رغبت تو نہیں ہے سائیں
ہاں مگر ہو کے پریشان اٹھا لیتے ہیں
ایسے تاجر کہ جنہیں سود گوارا ہو فقط
راہ الفت میں وہ نقصان اٹھا لیتے ہیں


میں مخاطب ہوں کسی اور منافق سے میاں
آپ کیوں ہاتھ میں قرآن اٹھا لیتے ہیں
بے جھجھک آپ محبت کو جتایا کیجے
ہم حسینوں کے تو احسان اٹھا لیتے ہیں


55177 viewsghazalUrdu