گلوں کا سینہ فگار کیسا روش روش پر غبار کیسا

By birj-lal-raanaFebruary 26, 2024
گلوں کا سینہ فگار کیسا روش روش پر غبار کیسا
مرے چمن کے محافظو یہ نیا نظام بہار کیسا
ہوائے بادہ میں تلخیوں سے گریز ممکن نہیں ہے ہرگز
یہ زندگانی میں زندگانی کی کشمکش سے فرار کیسا


جو دل کی ٹھنڈک بنے ہوئے تھے وہی دلوں کو جلا رہے ہیں
ہوائے گلشن نے بھر دیا ہے گلوں میں رنگ شرار کیسا
جہاں امیدوں کی روشنی تھی وہاں یہ حسرت کی ظلمتیں کیوں
جہاں سنہرے محل کھڑے تھے وہاں یہ سونا مزار کیسا


نکل کے دامان گل سے کانٹوں میں ڈھونڈھتے ہو پناہ رعناؔ
یہ پیار سے نفرتیں ہیں کیسی یہ نفرتوں سے ہے پیار کیسا
85838 viewsghazalUrdu