گمراہیوں میں لٹ گئی عشرت خیال کی
By bishan-dayal-shad-dehlviFebruary 26, 2024
گمراہیوں میں لٹ گئی عشرت خیال کی
اب جستجو سے پاک ہے صورت مآل کی
رنگ شفق سے شان عیاں ہے جمال کی
وہ داد چاہتے ہیں ابھی سے کمال کی
رحمت کے واسطے سے فقط ذوالجلال کی
جرأت ہر ایک رند نے کی حسب حال کی
غم ہے فراق کا نہ خوشی ہے وصال کی
میری نظر امین ہے حسن و جمال کی
ساقی کا التفات ہے انعام انضباط
جرأت نہیں ہے ہوش کے منہ سے سوال کی
پردہ بھی ہو کبھی تو کبھی روبرو بھی ہو
ضامن ہے عافیت کی روش اعتدال کی
چشم کرم کے ساتھ صراحی بھی جھک گئی
تقدیر دم زدن میں بدل دی سفال کی
یہ مہر و ماہ حسن و نظر اور رنگ و بو
عکس آفرینیاں ہیں کسی کے جمال کی
ہر رعب حسن داب محبت مزاج عشق
رکھتا ہے سربسر کوئی خوبی کمال کی
با وصف شرط بندگی بندہ نواز نے
آقائی بخش دی ہے عمل کی خیال کی
اس بے خودی کا صید ہوا ہے سکوں نصیب
مخفی ہے جو نظر سے زوال و کمال کی
سر اس لیے نہ اٹھ سکا سجدے سے آج تک
عزت عزیز ہے عرق انفعال کی
زاہد خدا کی دی ہوئی نعمت کا رنگ دیکھ
اس سے تمیز ہوگی حرام و حلال کی
نام خدا کو رکھتا ہے دل اس لیے عزیز
آزاد ہے یہ قید سے ہر احتمال کی
گمنامیوں میں شادؔ رہا تم سا بے نوا
استاد لاج رہ گئی دست سوال کی
اب جستجو سے پاک ہے صورت مآل کی
رنگ شفق سے شان عیاں ہے جمال کی
وہ داد چاہتے ہیں ابھی سے کمال کی
رحمت کے واسطے سے فقط ذوالجلال کی
جرأت ہر ایک رند نے کی حسب حال کی
غم ہے فراق کا نہ خوشی ہے وصال کی
میری نظر امین ہے حسن و جمال کی
ساقی کا التفات ہے انعام انضباط
جرأت نہیں ہے ہوش کے منہ سے سوال کی
پردہ بھی ہو کبھی تو کبھی روبرو بھی ہو
ضامن ہے عافیت کی روش اعتدال کی
چشم کرم کے ساتھ صراحی بھی جھک گئی
تقدیر دم زدن میں بدل دی سفال کی
یہ مہر و ماہ حسن و نظر اور رنگ و بو
عکس آفرینیاں ہیں کسی کے جمال کی
ہر رعب حسن داب محبت مزاج عشق
رکھتا ہے سربسر کوئی خوبی کمال کی
با وصف شرط بندگی بندہ نواز نے
آقائی بخش دی ہے عمل کی خیال کی
اس بے خودی کا صید ہوا ہے سکوں نصیب
مخفی ہے جو نظر سے زوال و کمال کی
سر اس لیے نہ اٹھ سکا سجدے سے آج تک
عزت عزیز ہے عرق انفعال کی
زاہد خدا کی دی ہوئی نعمت کا رنگ دیکھ
اس سے تمیز ہوگی حرام و حلال کی
نام خدا کو رکھتا ہے دل اس لیے عزیز
آزاد ہے یہ قید سے ہر احتمال کی
گمنامیوں میں شادؔ رہا تم سا بے نوا
استاد لاج رہ گئی دست سوال کی
59354 viewsghazal • Urdu