حال خود آگہی کب تجھ سے نہاں ہے ساقی
By bishan-dayal-shad-dehlviFebruary 26, 2024
حال خود آگہی کب تجھ سے نہاں ہے ساقی
ظرف ہر چیز کا صورت سے عیاں ہے ساقی
فکر مستی ہی فقط تجھ کو گراں ہے ساقی
ورنہ ہستی کا مجھے ہوش کہاں ہے ساقی
پیکر حسن کی تصویر ہے میرے دم سے
دل ہے بیدار نظر میری جواں ہے ساقی
گرد ہے پیکر کونین کی خود آرائی
آج رگ رگ میں مئے ہوش رواں ہے ساقی
مدعا کہنے کو بیتاب ہوا بیٹھا ہوں
آخر انساں ہوں مرے منہ میں زباں ہے ساقی
جام و مینا ہیں ترے لطف و کرم کے مصحف
سرخیٔ مے میں یہی راز نہاں ہے ساقی
رنگ گل نغمۂ قلقل و فسوں کاری میں
تیری محفل کی ہر اک چیز جواں ہے ساقی
مدعی ہوش کے سب گم ہیں ترے جلووں میں
کس طرح سمجھے کوئی کون کہاں ہے ساقی
آج تک راز نہ اس منزل رنگیں کا کھلا
اک جہاں جس کی مسافت میں رواں ہے ساقی
بزم ظاہر سے تری شادؔ ہے عالم لیکن
دل پرکھنے کا وہ سامان کہاں ہے ساقی
ظرف ہر چیز کا صورت سے عیاں ہے ساقی
فکر مستی ہی فقط تجھ کو گراں ہے ساقی
ورنہ ہستی کا مجھے ہوش کہاں ہے ساقی
پیکر حسن کی تصویر ہے میرے دم سے
دل ہے بیدار نظر میری جواں ہے ساقی
گرد ہے پیکر کونین کی خود آرائی
آج رگ رگ میں مئے ہوش رواں ہے ساقی
مدعا کہنے کو بیتاب ہوا بیٹھا ہوں
آخر انساں ہوں مرے منہ میں زباں ہے ساقی
جام و مینا ہیں ترے لطف و کرم کے مصحف
سرخیٔ مے میں یہی راز نہاں ہے ساقی
رنگ گل نغمۂ قلقل و فسوں کاری میں
تیری محفل کی ہر اک چیز جواں ہے ساقی
مدعی ہوش کے سب گم ہیں ترے جلووں میں
کس طرح سمجھے کوئی کون کہاں ہے ساقی
آج تک راز نہ اس منزل رنگیں کا کھلا
اک جہاں جس کی مسافت میں رواں ہے ساقی
بزم ظاہر سے تری شادؔ ہے عالم لیکن
دل پرکھنے کا وہ سامان کہاں ہے ساقی
43454 viewsghazal • Urdu