ہے وصل اگر اس میں تو فرقت بھی بہت ہے

By anaam-damohiFebruary 5, 2024
ہے وصل اگر اس میں تو فرقت بھی بہت ہے
یہ عشق ہے اور اس میں اذیت بھی بہت ہے
آسان نہیں راہ محبت کی دوانے
غم بھی ہے بہت اس میں مسرت بھی بہت ہے


آہستہ سے کر دیتا ہے وہ چاک گریباں
اس ماہ جبیں رخ کی کرامات بھی بہت ہے
ویسے تو نہیں دل میں کوئی اس کے علاوہ
ایسے تو بہت بھیڑ ہے وسعت بھی بہت ہے


آ آ کے مرے کان میں لیتیں ہیں ترا نام
سرگوش ہواؤں میں شرارت بھی بہت ہے
اک وقت تھا محروم تھا ہر چیز سے انعامؔ
اب نام ہے رتبہ بھی ہے شہرت بھی بہت ہے


37604 viewsghazalUrdu