ہیں الجھنیں تمام مری زندگی کے ساتھ
By aalam-nizamiJanuary 18, 2024
ہیں الجھنیں تمام مری زندگی کے ساتھ
انصاف کر رہا ہوں مگر شاعری کے ساتھ
یہ اور بات ہے میں زیادہ نہ مل سکوں
ملتا نہیں کسی سے مگر بے دلی کے ساتھ
کام آئی تیرگی میں چراغوں کی دوستی
گزری شب حیات مری روشنی کے ساتھ
بکھرے ہوئے وجود کو اپنے سمیٹ کر
ہم جینا چاہتے ہیں بڑی سادگی کے ساتھ
ہے جس کا جیسا ظرف وہ ویسا کیا کرے
کرتے نہیں ہیں ہم تو دغا دوستی کے ساتھ
عالمؔ امیر شہر بھی کرتا ہے احترام
رہتے ہیں اتنی شان سے ہم مفلسی کے ساتھ
انصاف کر رہا ہوں مگر شاعری کے ساتھ
یہ اور بات ہے میں زیادہ نہ مل سکوں
ملتا نہیں کسی سے مگر بے دلی کے ساتھ
کام آئی تیرگی میں چراغوں کی دوستی
گزری شب حیات مری روشنی کے ساتھ
بکھرے ہوئے وجود کو اپنے سمیٹ کر
ہم جینا چاہتے ہیں بڑی سادگی کے ساتھ
ہے جس کا جیسا ظرف وہ ویسا کیا کرے
کرتے نہیں ہیں ہم تو دغا دوستی کے ساتھ
عالمؔ امیر شہر بھی کرتا ہے احترام
رہتے ہیں اتنی شان سے ہم مفلسی کے ساتھ
48126 viewsghazal • Urdu