ہمیں بناتے ہوئے خود بگڑ گیا ہے خدا
By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
ہمیں بناتے ہوئے خود بگڑ گیا ہے خدا
عجیب لوگوں کی صحبت میں پڑ گیا ہے خدا
چلی وہ شدت ایمان کی ہوائے خزاں
ہماری شاخ عقیدت سے جھڑ گیا ہے خدا
رفو کرے بھی محبت تو کس جگہ آخر
کہ سر سے پاؤں تلک ہی ادھڑ گیا ہے خدا
یہاں زمین سے ہم بھی اکھڑ کے رہ گئے ہیں
وہاں جو اپنے فلک پر اجڑ گیا ہے خدا
غزل نہیں ہے یہ ہے بندگی کی قبر احساسؔ
سو خاک بندگی میں آ کے گڑ گیا ہے خدا
عجیب لوگوں کی صحبت میں پڑ گیا ہے خدا
چلی وہ شدت ایمان کی ہوائے خزاں
ہماری شاخ عقیدت سے جھڑ گیا ہے خدا
رفو کرے بھی محبت تو کس جگہ آخر
کہ سر سے پاؤں تلک ہی ادھڑ گیا ہے خدا
یہاں زمین سے ہم بھی اکھڑ کے رہ گئے ہیں
وہاں جو اپنے فلک پر اجڑ گیا ہے خدا
غزل نہیں ہے یہ ہے بندگی کی قبر احساسؔ
سو خاک بندگی میں آ کے گڑ گیا ہے خدا
17573 viewsghazal • Urdu