ہمیں یہ عشق حجابی بنا کے رکھنا ہے

By amir-masoodFebruary 5, 2024
ہمیں یہ عشق حجابی بنا کے رکھنا ہے
بدن کی بھوک سے دوری بنا کے رکھنا ہے
ذرا سی بات تھی اور اس نے توڑ دی تختی
وہ کہہ رہا ہے اداسی بنا کے رکھنا ہے


نہ جانے کون سے لمحے میں تھام لے ہم کو
ہمیں تو خود کو ہتھیلی بنا کے رکھنا ہے
حقوق سب کے نبھانے ہیں ہم کو دنیا میں
ہمیں تو ماں کو بھی رانی بنا کے رکھنا ہے


ہماری جنگ ہے اپنوں سے رو نہیں سکتے
ہمیں ان آنکھوں کو ضدی بنا کے رکھنا ہے
83887 viewsghazalUrdu