ہنگامۂ حیات کو کوئی تو نام دے
By ahmar-nadeemFebruary 5, 2024
ہنگامۂ حیات کو کوئی تو نام دے
اے زندگی مجھے تو مناسب مقام دے
جلدی نہ کر کہ ساقیا یہ فعل ہے برا
باقی ہے شب تمام سلیقے سے جام دے
چرچا مری شکست کا کچھ دیر تک تو ہو
میں کب یہ چاہتا تھا بقائے دوام دے
یہ کیا کہ ایک تال پہ دنیا ہے محو رقص
اس گردش کہن کو نئے صبح و شام دے
احمر ندیمؔ ضبط کے پہلو کو تھام کر
کیا توسن حیات کو کوئی لگام دے
اے زندگی مجھے تو مناسب مقام دے
جلدی نہ کر کہ ساقیا یہ فعل ہے برا
باقی ہے شب تمام سلیقے سے جام دے
چرچا مری شکست کا کچھ دیر تک تو ہو
میں کب یہ چاہتا تھا بقائے دوام دے
یہ کیا کہ ایک تال پہ دنیا ہے محو رقص
اس گردش کہن کو نئے صبح و شام دے
احمر ندیمؔ ضبط کے پہلو کو تھام کر
کیا توسن حیات کو کوئی لگام دے
97968 viewsghazal • Urdu