ہانپتے موسم تڑختے ٹوٹتے دن کٹ گئے
By basheer-ahmad-basheerJanuary 19, 2024
ہانپتے موسم تڑختے ٹوٹتے دن کٹ گئے
کٹ گئے جلتے پگھلتے کھولتے دن کٹ گئے
چھاؤں کب آئی میسر دشت امکانات میں
بھاگتے سایوں کے پیچھے بھاگتے دن کٹ گئے
چار سو پھیلے تھے کھارے پانیوں کے سلسلے
ساحلوں سے دور ابھرتے ڈوبتے دن کٹ گئے
کب کسی غرفے سے اتری کوئی نا مسطور سطر
حرف و معنی کی کمندیں ڈالتے دن کٹ گئے
کٹ گئے کچھ روز و شب کرتے رقم آشوب عہد
کچھ کڑے وقتوں کی کڑیاں کاٹتے دن کٹ گئے
وہ خنک رت لوٹ کر آئی نہ پھر بیتیں رتیں
آگ تپتی ساعتوں کی تاپتے دن کٹ گئے
ذکر سے اب فائدہ کیا یار جیسے بھی کٹے
سرد سانسوں میں سیاہی گھولتے دن کٹ گئے
آج تک سوچا نہیں تھا اب خیال آنے لگا
کن گلی کوچوں میں پھرتے گھومتے دن کٹ گئے
درد کی کروٹ ہے کیا جانے وہ کیا جس کے بشیرؔ
بے خیالی میں ہی سوتے جاگتے دن کٹ گئے
کٹ گئے جلتے پگھلتے کھولتے دن کٹ گئے
چھاؤں کب آئی میسر دشت امکانات میں
بھاگتے سایوں کے پیچھے بھاگتے دن کٹ گئے
چار سو پھیلے تھے کھارے پانیوں کے سلسلے
ساحلوں سے دور ابھرتے ڈوبتے دن کٹ گئے
کب کسی غرفے سے اتری کوئی نا مسطور سطر
حرف و معنی کی کمندیں ڈالتے دن کٹ گئے
کٹ گئے کچھ روز و شب کرتے رقم آشوب عہد
کچھ کڑے وقتوں کی کڑیاں کاٹتے دن کٹ گئے
وہ خنک رت لوٹ کر آئی نہ پھر بیتیں رتیں
آگ تپتی ساعتوں کی تاپتے دن کٹ گئے
ذکر سے اب فائدہ کیا یار جیسے بھی کٹے
سرد سانسوں میں سیاہی گھولتے دن کٹ گئے
آج تک سوچا نہیں تھا اب خیال آنے لگا
کن گلی کوچوں میں پھرتے گھومتے دن کٹ گئے
درد کی کروٹ ہے کیا جانے وہ کیا جس کے بشیرؔ
بے خیالی میں ہی سوتے جاگتے دن کٹ گئے
11155 viewsghazal • Urdu