ہر نئی شام سہانی تو نہیں ہوتی ہے

By ajmal-sirajJanuary 18, 2024
ہر نئی شام سہانی تو نہیں ہوتی ہے
اور ہر عمر جوانی تو نہیں ہوتی ہے
تم نے احسان کیا تھا سو جتایا تم نے
جو محبت ہو جتانی تو نہیں ہوتی ہے


دوستو سچ کہو کب دل کو قرار آئے گا
ہر گھڑی آس بندھانی تو نہیں ہوتی ہے
دل میں جو آگ لگی ہے وہ لگی رہنے دے
یار ہر آگ بجھانی تو نہیں ہوتی ہے


جب بھی ملتے ہیں چٹک اٹھتے ہیں کلیوں کی طرح
دوستی ہو تو پرانی تو نہیں ہوتی ہے
بارہا اس کی گلی سے یہ گزر کر سوچا
ہر گلی چھوڑ کے جانی تو نہیں ہوتی ہے


موج ہوتی ہے کہیں اور بھنور ہوتے ہیں
صرف دریا میں روانی تو نہیں ہوتی ہے
دور ہو کر بھی وہ نزدیک ہے قربت یعنی
از رہ قرب مکانی تو نہیں ہوتی ہے


شائبہ جس میں حقیقت کا نہیں ہو اجملؔ
وہ کہانی بھی کہانی تو نہیں ہوتی ہے
24441 viewsghazalUrdu