ہر رنگ بے حجاب خبر ہے حجاب کی

By bishan-dayal-shad-dehlviFebruary 26, 2024
ہر رنگ بے حجاب خبر ہے حجاب کی
ذوق نظر سے پوچھیے قیمت نقاب کی
صورت بھٹک رہی ہے نظر میں شباب کی
فرصت سوال کی ہے نہ مہلت جواب کی


ریجھی ہوئی ہے ان پہ نظر ماہتاب کی
قسمت چمک رہی ہے مرے انتخاب کی
جن کی حلاوتیں ہوں میسر شباب کی
ان پر نہ کیوں حرام ہو تلخی شراب کی


پھر یاد آ گئی کسی مست شباب کی
دعوت سی مل رہی ہے نظر کو شراب کی
باقی رہی نہ جب کوئی صورت ثواب کی
چشم بتاں نے سوچ کے بیعت شراب کی


تکلیف دیجیے نہ لبوں کو جواب کی
آنکھوں سے آشکار ہے مرضی جناب کی
مٹی عزیز ہے دل خانہ خراب کی
بیداریوں میں سو گئی تعبیر خواب کی


آمد ہے گلستاں میں کسی سبز گام کی
ہر شاخ پر بکھیر ہوئی ہے گلاب کی
ہر دل کی پاسدار ہے اک جان دلبری
ہر نجم و ماہ میں ہے کرن آفتاب کی


ہر جام تشنہ کام کرم کا ہے منتظر
یہ کس کے ہاتھ میں ہے صراحی شراب کی
مہنگا پڑے گا شوق تجھے نامراد دل
کیوں رگ پھڑک رہی ہے ترے اضطراب کی


ہیں شادؔ آج آپ کسی بزم غیر میں
تعریف ہو رہی ہے سنا ہے جناب کی
44117 viewsghazalUrdu