ہرگز ٹھہر نہ دائرۂ اختیار تک
By bishan-dayal-shad-dehlviFebruary 26, 2024
ہرگز ٹھہر نہ دائرۂ اختیار تک
قسمت کو راہبر نہ بنا کوئے یار تک
وہ دم میں آئیں گے نہ دم اعتبار تک
تو راہ ایک بار نہیں لاکھ بار تک
پہنچا نہ آج تک در پروردگار تک
ہر مدعیٔ شان دل ہوشیار تک
محرومیٔ نصیب نہ تھیں دل فریبیاں
ٹکرا کے آنکھ رہ گئی نقش و نگار تک
اس بے خودی کی شان کے قربان جائیے
جس کا ترے کرم سے نہ ہو کم خمار تک
سجدہ گری کی جان ہے ہر آرزوئے دید
لیکن نظر پہ دل کو نہیں اعتبار تک
اب خواب میں بھی جلوہ دکھانے سے ہے گریز
لو چھن گیا نظر کا مری اختیار تک
دست جنوں نے جسم کو آزاد کر دیا
رکھا نہ پیرہن سے لگا ایک تار تک
مینائے باریاب ہے ساغر کی بندگی
آیا کبھی نہ شیشۂ دل میں غبار تک
معروضۂ وفا کو سنیں آپ ایک دن
بندوں کی ٹیر سنتا ہے پروردگار تک
افسردگی کا راز نظر کی خزاں میں ہے
ورنہ ہے ہر نگاہ پہ قرباں بہار تک
غنچے مزاج عشق پہ کستے ہیں پھبتیاں
گل ہی گواہ ہوں گے شہادت ہزار تک
مجنوں کو راہ عشق میں دیوانہ دیکھ کر
پاؤں کو چومنے لگے صحرا میں خار تک
وہ شادؔ کس طرح ہو کسی کے حضور میں
جو دل اٹھا سکے نہ محبت کا بار تک
قسمت کو راہبر نہ بنا کوئے یار تک
وہ دم میں آئیں گے نہ دم اعتبار تک
تو راہ ایک بار نہیں لاکھ بار تک
پہنچا نہ آج تک در پروردگار تک
ہر مدعیٔ شان دل ہوشیار تک
محرومیٔ نصیب نہ تھیں دل فریبیاں
ٹکرا کے آنکھ رہ گئی نقش و نگار تک
اس بے خودی کی شان کے قربان جائیے
جس کا ترے کرم سے نہ ہو کم خمار تک
سجدہ گری کی جان ہے ہر آرزوئے دید
لیکن نظر پہ دل کو نہیں اعتبار تک
اب خواب میں بھی جلوہ دکھانے سے ہے گریز
لو چھن گیا نظر کا مری اختیار تک
دست جنوں نے جسم کو آزاد کر دیا
رکھا نہ پیرہن سے لگا ایک تار تک
مینائے باریاب ہے ساغر کی بندگی
آیا کبھی نہ شیشۂ دل میں غبار تک
معروضۂ وفا کو سنیں آپ ایک دن
بندوں کی ٹیر سنتا ہے پروردگار تک
افسردگی کا راز نظر کی خزاں میں ہے
ورنہ ہے ہر نگاہ پہ قرباں بہار تک
غنچے مزاج عشق پہ کستے ہیں پھبتیاں
گل ہی گواہ ہوں گے شہادت ہزار تک
مجنوں کو راہ عشق میں دیوانہ دیکھ کر
پاؤں کو چومنے لگے صحرا میں خار تک
وہ شادؔ کس طرح ہو کسی کے حضور میں
جو دل اٹھا سکے نہ محبت کا بار تک
47414 viewsghazal • Urdu