ہری بھری تھی ٹہنی سرخ گلاب کی بھی

By jamal-ehsaniFebruary 26, 2024
ہری بھری تھی ٹہنی سرخ گلاب کی بھی
عجب کہانی تھی سوکھے تالاب کی بھی
آنکھ میں ایک سفر ہے ریگستانوں کا
ایک مسافت دریاؤں کے خواب کی بھی


کھلے رکھو دروازے اندھیری راتوں میں
کبھی ضرور آئے گی کرن مہتاب کی بھی
ہنستی گاتی آبادی کو اجاڑنے میں
حالت غیر ہوئی ہوگی سیلاب کی بھی


کب تک آخر دل کی بات نہ کہتا جمالؔ
حد ہوتی ہے محفل کے آداب کی بھی
90436 viewsghazalUrdu