حسرت دل یوں نکالی جائے گی

By bishan-dayal-shad-dehlviFebruary 26, 2024
حسرت دل یوں نکالی جائے گی
آرزو میں جان ڈالی جائے گی
آبرو جب برملا لی جائے گی
اک نظر بھر کے چرا لی جائے گی


آخری خواہش بھی ٹالی جائے گی
تیغ کیا ان سے سنبھالی جائے گی
ناز سے دنیا کما لی جائے گی
ہاتھ پر سرسوں جما لی جائے گی


رہن گلشن ہو چلا ذوق نہاں
اب نظر سانچے میں ڈھالی جائے گی
کیا خبر تھی عشق کی تعمیر میں
درد کی بنیاد ڈالی جائے گی


یہ تو ظاہر تھا کہ بزم حسن میں
عشق کی پگڑی اچھالی جائے گی
ان کو اپنے بالمقابل دیکھ کر
بے خودی کیسے سنبھالی جائے گی


دشمنی کے ذکر پر مائل ہیں وہ
دوستی کی بات ٹالی جائے گی
بزم الفت کی نظر میں خار ہوں
بد نگاہی مجھ پہ ڈھالی جائے گی


شادؔ رہتے کٹ گئی ہے زندگی
نبھ سکے گی جو نبھا لی جائے گی
25538 viewsghazalUrdu