ہاتھ پہنچے بھی نہ تھے مہتاب تک
By chand-kakralviJanuary 19, 2024
ہاتھ پہنچے بھی نہ تھے مہتاب تک
ہو گئے مٹی سنہرے خواب تک
چال تو دریا کی ہم نے روک دی
آ گئی نوبت مگر سیلاب تک
بادلوں کی مہربانی ہو گئی
ورنہ کیا آتی ندی تالاب تک
اس زمیں کی آبیاری کیسے ہو
کم ہے جس کی پیاس کو سیلاب تک
دکھ تو یہ ہے کوڑیوں میں بک گئے
کچھ گھروں کے گوہر نایاب تک
خیر ہو مولا سیاست آ گئی
مسجدوں کے منبر و محراب تک
حوصلہ تنکے کا وہ بھی دیکھ لے
لے چلو موجو مجھے گرداب تک
ہو گئے مٹی سنہرے خواب تک
چال تو دریا کی ہم نے روک دی
آ گئی نوبت مگر سیلاب تک
بادلوں کی مہربانی ہو گئی
ورنہ کیا آتی ندی تالاب تک
اس زمیں کی آبیاری کیسے ہو
کم ہے جس کی پیاس کو سیلاب تک
دکھ تو یہ ہے کوڑیوں میں بک گئے
کچھ گھروں کے گوہر نایاب تک
خیر ہو مولا سیاست آ گئی
مسجدوں کے منبر و محراب تک
حوصلہ تنکے کا وہ بھی دیکھ لے
لے چلو موجو مجھے گرداب تک
95096 viewsghazal • Urdu