ہاتھ اس کے ہیں اور دعا میں ہوں

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
ہاتھ اس کے ہیں اور دعا میں ہوں
یہ نہیں کہہ رہا خدا میں ہوں
اچھا تو رات تم تھے پہلو میں
میں نے سمجھا کہ دوسرا میں ہوں


کوئی رہبر ہو کوئی رہزن ہو
قافلہ وہ ہے راستہ میں ہوں
کاروبار سکون جاری ہے
چھینتا وہ ہے مانگتا میں ہوں


سارے دریا اسی کی جانب ہیں
تیرتا وہ ہے ڈوبتا میں ہوں
بھیڑ لگ جاتی ہے مریضوں کی
چارہ گر وہ ہے اور دوا میں ہوں


تار ایسے جڑے ہیں آنکھوں کے
سوچتا وہ ہے بولتا میں ہوں
چھپ رہی ہے ابھی کتاب دل
سر ورق وہ ہے حاشیہ میں ہوں


64611 viewsghazalUrdu