ہوا بہت تیز چل رہی ہے میں خود کو بھی تیز کر رہا ہوں

By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
ہوا بہت تیز چل رہی ہے میں خود کو بھی تیز کر رہا ہوں
کہ اپنے اندر کی انتہاؤں کو اور مہمیز کر رہا ہوں
بدن ہوں میں اور بدن زمیں ہے زمیں میں کرتا ہوں کاشتکاری
جو مجھ کو بنجر دیا گیا تھا میں اس کو زرخیز کر رہا ہوں


بنا رہا ہوں تجھے وہ کرسی میں جس پہ لکھنے کو بیٹھتا تھا
تو مجھ کو تصریف دے کہ خود کو ترے لیے میز کر رہا ہوں
تجھے پتہ بھی نہیں چلے گا کہ میرا مجذوب ہو گیا تو
میں تیری مٹی کو اپنے پانی میں یوں ہم آمیز کر رہا ہوں


بنا رہا ہوں میں فرحت اللہ خاںؔ کے لفظوں کو فرحت احساسؔ
کہیں ہو رومی کوئی تو سن لے کہ خود کو تبریز کر رہا ہوں
50583 viewsghazalUrdu