ہوا کا ہاتھ پکڑ کر یہاں جو چلتا ہے
By irfan-aazmiFebruary 6, 2024
ہوا کا ہاتھ پکڑ کر یہاں جو چلتا ہے
ہر ایک دوڑ میں آگے وہی نکلتا ہے
اسی لیے تو ذرا رخ بدل کے چلتا ہے
اب اس زمین پہ سورج کا پاؤں جلتا ہے
ضرور کوئی نہ کوئی مکان جلتا ہے
جلوس جب بھی مرے شہر میں نکلتا ہے
ہم اپنے شہر کے ملعب میں گیند کیا کھیلیں
ہمارے شہر کی گلیوں میں سر اچھلتا ہے
امیر شہر کے ارمان ابھی کہاں نکلے
ابھی غریب کے گھر میں چراغ جلتا ہے
یہ کہہ کے جھگیاں توڑیں محل نشینوں نے
یہ وہ جگہ ہے جہاں انقلاب پلتا ہے
سکون لوٹ لیا شہر کے اجالوں نے
اندھیری رات میں چھت پر کوئی ٹہلتا ہے
وہاں خدا کی خدائی پہ شک معاذ اللہ
ہزار چشمۂ زمزم جہاں ابلتا ہے
اب اس سخن میں کسی کو بھی اختلاف نہیں
جو دوسروں کو جلاتا ہے وہ بھی جلتا ہے
وہ میرے ساتھ چلے بھی تو اس طرح عرفانؔ
کہ جیسے کوئی جنازے کے ساتھ چلتا ہے
ہر ایک دوڑ میں آگے وہی نکلتا ہے
اسی لیے تو ذرا رخ بدل کے چلتا ہے
اب اس زمین پہ سورج کا پاؤں جلتا ہے
ضرور کوئی نہ کوئی مکان جلتا ہے
جلوس جب بھی مرے شہر میں نکلتا ہے
ہم اپنے شہر کے ملعب میں گیند کیا کھیلیں
ہمارے شہر کی گلیوں میں سر اچھلتا ہے
امیر شہر کے ارمان ابھی کہاں نکلے
ابھی غریب کے گھر میں چراغ جلتا ہے
یہ کہہ کے جھگیاں توڑیں محل نشینوں نے
یہ وہ جگہ ہے جہاں انقلاب پلتا ہے
سکون لوٹ لیا شہر کے اجالوں نے
اندھیری رات میں چھت پر کوئی ٹہلتا ہے
وہاں خدا کی خدائی پہ شک معاذ اللہ
ہزار چشمۂ زمزم جہاں ابلتا ہے
اب اس سخن میں کسی کو بھی اختلاف نہیں
جو دوسروں کو جلاتا ہے وہ بھی جلتا ہے
وہ میرے ساتھ چلے بھی تو اس طرح عرفانؔ
کہ جیسے کوئی جنازے کے ساتھ چلتا ہے
50379 viewsghazal • Urdu