ہزاروں رنج سہتے ہیں ہزاروں غم اٹھاتے ہیں

By devesh-dixitFebruary 5, 2024
ہزاروں رنج سہتے ہیں ہزاروں غم اٹھاتے ہیں
ہمارا حوصلہ دیکھو مگر ہم مسکراتے ہیں
نوالوں کی سہی قیمت وہی مزدور سمجھے گا
کہ جس کے دھوپ میں ہاتھوں کے چھالے پھوٹ جاتے ہیں


لٹا دیتے ہیں ہم جن پر کمائی خوں پسینے کی
وہی بچہ بڑھاپے میں ہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں
گرے شاخوں سے پتوں کا وہی تو درد سمجھیں گے
دلوں کے کھیل میں جو لوگ اکثر ٹوٹ جاتے ہیں


87991 viewsghazalUrdu