ہجر اس کا مرے اعصاب پہ یوں طاری تھا

By azwar-shiraziFebruary 26, 2024
ہجر اس کا مرے اعصاب پہ یوں طاری تھا
بعد مرنے کے بھی آنکھوں سے لہو جاری تھا
اتنی جلدی صف ماتم سے نکل آئے ہو
یار تم کو تو بہت زعم عزا داری تھا


کیا بتاؤں تجھے فرقت کے دنوں کی حالت
مجھ پہ ہر روز قیامت کی طرح بھاری تھا
ہم بضد تھے کہ ہمیں وصل کی سرشاری ملے
وہ مگر وعدہ وفا کرنے سے انکاری تھا


میں نے اس وقت بھی تجھ کو تہ دل سے چاہا
شغل جس دور میں لوگوں کا ریاکاری تھا
کس لیے تیرے تغافل سے بدل جاتا میں
مسئلہ میرا محبت میں وفاداری تھا


عقل میں بھی نہ مری سود و زیاں آتے تھے
دل تو کرتا ہی محبت کی طرف داری تھا
گھر بھی کب تھا مرے آرام و سکوں کا باعث
دشت بھی میرے لیے قریۂ بیزاری تھا


وقت پڑنے پہ مجھے سب کی سمجھ آتی تھی
کس قدر فیض رساں لمحۂ دشواری تھا
ٹوٹنے پر بھی کہاں میرے نشاں ملتے تھے
کوئی اس ڈھنگ سے کرتا مری مسماری تھا


اسے مارا گیا مسلک کی بنا پر ازورؔ
جس کا پیغام زمانے میں رواداری تھا
57777 viewsghazalUrdu