ہوش و خرد کا جال بچھائیں گے پھر کبھی
By ahmar-nadeemFebruary 5, 2024
ہوش و خرد کا جال بچھائیں گے پھر کبھی
زاہد تمہاری بات میں آئیں گے پھر کبھی
پہلے سکون چھین لیں ہم آسمان کا
شہر طرب زمیں پہ بسائیں گے پھر کبھی
ہونا ابھی ہے لذت گریہ سے مستفید
ناز و ادا کے لطف اٹھائیں گے پھر کبھی
مظلوم دل یہ کہتا رہا مجھ سے عمر بھر
بھولے سے اس گلی میں نہ جائیں گے پھر کبھی
تنہائیوں کا جشن منانے جناب من
احمرؔ تمہاری بزم میں آئیں گے پھر کبھی
زاہد تمہاری بات میں آئیں گے پھر کبھی
پہلے سکون چھین لیں ہم آسمان کا
شہر طرب زمیں پہ بسائیں گے پھر کبھی
ہونا ابھی ہے لذت گریہ سے مستفید
ناز و ادا کے لطف اٹھائیں گے پھر کبھی
مظلوم دل یہ کہتا رہا مجھ سے عمر بھر
بھولے سے اس گلی میں نہ جائیں گے پھر کبھی
تنہائیوں کا جشن منانے جناب من
احمرؔ تمہاری بزم میں آئیں گے پھر کبھی
27254 viewsghazal • Urdu