ہم جیسوں کا خیال کسی نے نہیں کیا

By ikram-arfiFebruary 6, 2024
ہم جیسوں کا خیال کسی نے نہیں کیا
اس بات کا ملال کسی نے نہیں کیا
ہوتی رہی ہیں جن کی طرف سے عنایتیں
درویش کو نہال کسی نے نہیں کیا


سب لوگ منتظر ہیں کہ دروازہ کچھ کہے
دیوار سے سوال کسی نے نہیں کیا
تسخیر تو کیا ہے کسی کے جمال نے
پابند خد و خال کسی نے نہیں کیا


بے مثل کی مثال اگر دی تو ہم نے دی
یہ کار بے مثال کسی نے نہیں کیا
چارہ گران زخم کو پھر بھی مرا سلام
حالانکہ اندمال کسی نے نہیں کیا


اکرامؔ شام ہجر گزرنے کے باوجود
شرمندۂ وصال کسی نے نہیں کیا
43707 viewsghazalUrdu