ہم ترے غم کے پاس بیٹھے تھے

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
ہم ترے غم کے پاس بیٹھے تھے
دوسرے غم اداس بیٹھے تھے
بس وہی امتحاں میں پاس ہوئے
جو ترے آس پاس بیٹھے تھے


شاہ کو بھا گئی تھی اک داسی
سب مصاحب اداس بیٹھے تھے
آندھی آئی تو انکشاف ہوا
کرسیوں پر لباس بیٹھے تھے


بام و در کو نہیں دکھائی دئے
تم ہمارے ہی پاس بیٹھے تھے
آج تھا بادشاہ کا تیجا
قبر پر صرف داس بیٹھے تھے


دوستوں نے ہنسا دیا آ کر
اچھے خاصے اداس بیٹھے تھے
54365 viewsghazalUrdu