ہم تو روٹھے تھے آزمانے کو

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
ہم تو روٹھے تھے آزمانے کو
کئی آیا نہیں منانے کو
جانے کیا بیر ہے زمانے کو
پھل سمجھتا ہے آشیانے کو


پارساؤں نے غور سے دیکھا
چلتے پھرتے شراب خانے کو
صحن کی خاک بام کے تنکے
کچھ تو دے دو دوا بنانے کو


اور کتنا بلند ہو جاؤں
تیری چوکھٹ پہ سر جھکانے کو
کیا ستم ہے کہ مار کر پتھر
بھول جاتا ہے وہ نشانے کو


اس نے پر بھی مرے نہیں کترے
میں تو راضی تھا پھڑپھڑانے کو
ہم بڑی دور چل کے آئے ہیں
پاؤں اک شخص کے دبانے کو


67010 viewsghazalUrdu