ہم نے کھڑکی میں جاں بٹھا لی ہے

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
ہم نے کھڑکی میں جاں بٹھا لی ہے
اس کی آواز آنے والی ہے
ہم کو تالا نظر نہیں آتا
اس کے در پر نظر جما لی ہے


اب کسی بزم میں نہ بولیں گے
اس گلی میں صدا لگا لی ہے
رکھ دیے ہیں چراغ کھڑکی میں
اور گھر میں ہوا چلا لی ہے


ہم تو صیاد ہیں ہمارے لئے
تو ہی گلشن ہے تو ہی مالی ہے
مجھ سے ٹوٹی ہوئی چھتوں نے کہا
یار برسات آنے والی ہے


اس کے کوچے میں ناچ آئے ہیں
سارے دن کی تھکن مٹا لی ہے
پنجرے بنتے ہیں شہر میں میرے
اس لئے آسمان خالی ہے


خاک میں بھی ملائیں گے فی الحال
زندگی عشق میں ملا لی ہے
69018 viewsghazalUrdu