اس قدر آندھیوں سے ڈرتا ہے

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
اس قدر آندھیوں سے ڈرتا ہے
وہ قفس میں اڑان بھرتا ہے
اس سے کچھ بھی نہیں چھپاتے ہم
وہ ہمارا علاج کرتا ہے


کئی تو پیڑ کی جڑوں میں ہے
جو پھلوں میں مٹھاس بھرتا ہے
ختم یہ زندگی نہیں ہوتی
آدمی تا حیات مرتا ہے


لاکھ زینے بناؤ لیکن چاند
ٹوٹی چھت پر نہیں اترتا ہے
اتنے تارے کہاں سے آتے ہیں
آسماں پر یہ کیا بکھرتا ہے


روز بتلاتا ہوں چراغوں کو
کتنی مشکل سے دن گزرتا ہے
تان رکھی ہے اس طرح گردن
جیسے ہم سے بھی کوئی ڈرتا ہے


70287 viewsghazalUrdu