اس قدر لوگوں کی کمی ہے مجھے
By ankit-mauryaFebruary 5, 2024
اس قدر لوگوں کی کمی ہے مجھے
ایک دیوار سن رہی ہے مجھے
اس کو سوچوں تو آنکھ لگ نہ سکے
بات دل پہ جو آ لگی ہے مجھے
خواب نیندیں اڑا گئے ہیں اور
نیند خوابوں میں آ رہی ہے مجھے
اتنا قائل ہوں میں اندھیرے کا
ایک جگنو بھی روشنی ہے مجھے
اتنا بیمار خود کو کر لیا ہے
سانس لینا ہی زندگی ہے مجھے
جینے والی تو جی چکا کب کا
جو بچی ہے وہ کاٹنی ہے مجھے
ایک دیوار سن رہی ہے مجھے
اس کو سوچوں تو آنکھ لگ نہ سکے
بات دل پہ جو آ لگی ہے مجھے
خواب نیندیں اڑا گئے ہیں اور
نیند خوابوں میں آ رہی ہے مجھے
اتنا قائل ہوں میں اندھیرے کا
ایک جگنو بھی روشنی ہے مجھے
اتنا بیمار خود کو کر لیا ہے
سانس لینا ہی زندگی ہے مجھے
جینے والی تو جی چکا کب کا
جو بچی ہے وہ کاٹنی ہے مجھے
77806 viewsghazal • Urdu