اس طرح آتا ہوں بازاروں کے بیچ
By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
اس طرح آتا ہوں بازاروں کے بیچ
جیسے نیند آ جائے بیداروں کے بیچ
میں مسلسل ملتوی ہوتا ہوا
ہر گھڑی ہر گام طیاروں کے بیچ
لڑکھڑانے لگتی ہیں سانسیں مری
ہر نفس ہر حال ہمواروں کے بیچ
یاد صحرا کی ہجوم شہر میں
زندگی کا خواب بیماروں کے بیچ
خود بہ خود بند قبا کھلتے ہوئے
حیرت اقرار انکاروں کے بیچ
ہم خود افسانے کے باہر ہو گئے
مر ہی جاتے ایسے کرداروں کے بیچ
ہم علم بردار اپنے جہل کے
مکتبوں کے علم برداروں کے بیچ
فرحتؔ احساس آ گیا کیا بزم میں
سادگی آئی ہے ہوشیاروں کے بیچ
جیسے نیند آ جائے بیداروں کے بیچ
میں مسلسل ملتوی ہوتا ہوا
ہر گھڑی ہر گام طیاروں کے بیچ
لڑکھڑانے لگتی ہیں سانسیں مری
ہر نفس ہر حال ہمواروں کے بیچ
یاد صحرا کی ہجوم شہر میں
زندگی کا خواب بیماروں کے بیچ
خود بہ خود بند قبا کھلتے ہوئے
حیرت اقرار انکاروں کے بیچ
ہم خود افسانے کے باہر ہو گئے
مر ہی جاتے ایسے کرداروں کے بیچ
ہم علم بردار اپنے جہل کے
مکتبوں کے علم برداروں کے بیچ
فرحتؔ احساس آ گیا کیا بزم میں
سادگی آئی ہے ہوشیاروں کے بیچ
85746 viewsghazal • Urdu