عشق کے کام کو انجام نہیں کرتے ہم

By farhat-ehsasFebruary 26, 2024
عشق کے کام کو انجام نہیں کرتے ہم
عشق ہو جائے تو پھر کام نہیں کرتے ہم
ایسے لمحوں میں وہ کرتا ہے عطا خلعت وصل
جب کوئی خواہش انعام نہیں کرتے ہم


پوجتے پوجتے اک بت کو خدا کر ڈالا
کون کہتا ہے کہ اسلام نہیں کرتے ہم
آپ کا جسم شریعت کا ہے پابند بہت
جائیے آپ پہ الہام نہیں کرتے ہم


دیوتاؤں کو لڑاتے نہیں آپس میں کبھی
کرشن کرتے ہیں تو پھر رام نہیں کرتے ہم
برہنہ ہی حرم جسم کا کرتے ہیں طواف
روح کی گردش احرام نہیں کرتے ہم


اس کے دیدار کا سورج نکل آئے جس روز
صبح سے پھر طلب شام نہیں کرتے ہم
فرحت احساسؔ تجھے شاعری کرنے کے لئے
الٹا سیدھا ترا کیا کام نہیں کرتے ہم


12200 viewsghazalUrdu